(۹۷۷۶)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حِکَایَۃً عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ (إِنَّمَا النَّسِیئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ) قَالَ : حَجُّوا فِی ذِی الْحِجَّۃِ عَامَیْنِ ثُمَّ حَجُّوا فِی الْمُحَرَّمِ عَامَیْنِ فَکَانُوا یَحُجُّونَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ فِی کُلِّ شَہْرٍ عَامَیْنِ حَتَّی وَافَقَتْ حَجَّۃُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الآخِرَ مِنَ الْعَامِینِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ قَبْلَ حَجَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ بِسَنَۃٍ ثُمَّ حَجَّ النَّبِیُّ -ﷺ مِنْ قَابِلٍ فِی ذِی الْحِجَّۃِ فَذَلِکَ حِین یَقُولُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فِی خُطْبَتِہِ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللَّہُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ۔ [صحیح]
(٩٧٧٦) ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل (رح) حضرت مجاہد (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { اِنَّمَا النَّسِیْٓئُ زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ } [التوبۃ : ٣٧] ” مہینہ کا سر کا دینا اور زیادہ کفر ہے۔ “ انھوں نے ذوالحجہ میں دو سال حج کیا۔ پھر دو سال محرم میں حج کیا۔
پھر انھوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔