(۹۷۷۸)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَسَوِیُّ الدَاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤْیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی ابْنَ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی قَالَ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ أَوْ زَیْدُ بْنُ نُعَیْمٍ شَکَّ أَبُو تَوْبَۃَ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ جُذَامٍ جَامَعَ امْرَأَتَہُ وَہُمَا مَحْرِمَانِ فَسَأَلَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ فَقَالَ لَہُمَا : اقْضِیَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ہَدْیًا ثُمَّ ارْجِعَا حَتَّی إِذَا جِئْتُمَا الْمَکَانَ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلاَ یَرَی وَاحِدٌ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ وَعَلَیْکُمَا حَجَّۃٌ أُخْرَی فَتُقْبِلاَنِ حَتَّی إِذَا کُنْتُمَا بِالْمَکَانِ الَّذِی أَصَبْتُمَا فِیہِ مَا أَصَبْتُمَا فَأَحْرِمَا وَأَتَّمَا نُسُکَکُمَا وَأَہْدِیَا ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَہُوَ یَزِیدُ بْنُ نُعَیْمٍ الأَسْلَمِیُّ بِلاَ شَکٍّ وَقَدْ رُوِیَ مَا فِی حَدِیثِہِ أَوْ أَکْثَرَہُ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود فی المراسیل، رقم ۱۲۹]
(٩٧٧٨) یزید بن نعیم یا زید بن نعیم راوی ابو توبہ کو شک ہے، فرماتے ہیں کہ جزام قبیلہ کے ایک مرد نے حالت احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کرلی، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا ؟ تم حج کے مناسک پورے کرو اور قربانی کرو۔ پھر تم دونوں واپس پلٹ کر اسی جگہ پہنچ جاؤ جس جگہ تم سے گناہ سرزد ہوا تھا۔ پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوجاؤ کہ تم دونوں میں سے کوئی دوسرے کو دیکھ نہ سکے اور آئندہ سال تم پر حج کرنا لازم ہے، پھر آئندہ سال جب تم اسی جگہ پر آجاؤ تو احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرو اور قربانی دو۔