(۹۷۸۸) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : جَائَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَقَالَ : وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی قَبْلَ أَنْ أَزُورَ فَقَالَ : إِنْ کَانَتْ أَعَانَتْکَ فَعَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ وَإِنْ کَانَتْ لَمْ تُعِنْکَ فَعَلَیْکَ نَاقَۃٌ حَسْنَائُ جَمْلاَئُ ۔
(ت) وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ : أَبِی الشَّعْثَائِ أَنَّہُ قَالَ : یُتِمَّانِ حَجَّہُمَا وَعَلَیْہِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ کَانَ ذَا مَیْسَرَۃِ أَہْدَی جَزُورًا۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ یَفْتَرِقَانِ وَلاَ یَجْتَمِعَانِ حَتَّی یَفْرُغَا مِنْ حَجِّہِمَا۔ [حسن]
(٩٧٨٨) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، یعنی مجامعت کرلی تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔