(۹۷۹۳)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا السَّکَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ : فِیَّ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ قَالَ فَأُتِیتُ النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالَ لِی : ادْنُ ۔ فَدَنَوْتُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّکَ ۔ أَظُنُّہُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَقَالَ أَیُّوبُ عَنْ مُجَاہِدٍ : أَیُؤْذِیکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ ۔ فَأَمَرَنِی بِصَوْمٍ أَوْ بِصَدَقَۃٍ أَوْ بِنُسُکِ مَا تَیَسَّرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَفَسَّرَ لِی مُجَاہِدٌ فَنَسِیتُ فَأَنْبَأَنِی أَیُّوبُ أَنَّہُ سَمِعَہُ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : صِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ أَوْ صَدَقَۃُ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ أَوْ نُسُکُ شَاۃٍ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۲۰۔ مسلم ۱۲۰۱]
(٩٧٩٣) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ حضرت کعب بن عجرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریب ہوجاؤ۔ میں دو یا تین مرتبہ قریب ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ میں یہی گمان کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : ہاں۔
(ب) ایوب مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ کیا تجھے تیرے سر کی جو ئوں نے تکلیف دی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے س ناکہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔