(۹۸۰۵)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّ رَجُلاً اعْتَمَرَ فَغَشِیَ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَیْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : فِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نَسَکٍ فَقُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ أَوْ بَقَرَۃٌ۔ قُلْتُ : فَأَیُّ ذَلِکَ أَفْضَلُ؟ قَالَ : جَزُورٌ۔ خَالَفَہُ أَیُّوبُ عَنْ سَعِیدٍ۔ [صحیح]
(٩٨٠٥) ابو بشر حضرت سعید بن جبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا ومروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرلی۔ ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا : افضل کون سا ہے۔ فرمانے لگے : اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا : پھر کون سا افضل ہے ؟ فرمانے لگے : اونٹ۔ ایوب نے حضرت سعید سے مخالفت کی ہے۔