(۹۸۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ : سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَلَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ أَیَقَعُ بِامْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَطَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ قَالَ عَمْرٌو سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ : لاَ یَقْرَبُہَا حَتَّی یَطُوفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۷]
(٩٨٠٤) عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کرلیا لیکن صفا ومروہ کا طواف نہ کیا بلکہ وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرلی ؟ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی۔ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ نے فرمایا : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب : ٢١) ” تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں نمونہ ہے۔ “ عمرو کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔