(۹۸۱۲)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَطَائٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَعْمُرَ یَقُولُ شَہِدْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَقُولُ : الْحَجُّ عَرَفَۃُ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَکَ عَرَفَۃَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ أَوْ تَمَّ حَجُّہُ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔
[صحیح۔ اخرجہ الترمذی ۲۹۸۵]
(٩٨١٢) عبدالرحمن بن یعمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ حج عرفہ کا ہی نام ہے، جس نے وقوف عرفہ کو طلوع فجر سے پہلے پا لیا اس نے حج کو پا لیا یا اس کا مکمل ہوگیا اور منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو پہلے دو دنوں میں جلدی کرلیتا ہے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو موخر کر دے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔