(۹۸۱۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَّرَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ حَدَّثَنَا بُکَیْرُ بْنُ عَطَائٍ اللَّیْثِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَعْمُرَ الدِّیلِیُّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ وَہُوَ بِعَرَفَاتٍ فَأَتَاہُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَأَمَرُوا رَجُلاً فَنَادَی : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ الْحَجُّ کَیْفَ الْحَجُّ؟ قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً فَنَادَی : الْحَجُّ یَوْمُ عَرَفَۃَ مَنْ جَائَ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ أَیَّامُ مِنًی ثَلاَثٌ مَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْہِ ۔ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً مِنْ خَلْفِہِ فَنَادَی بِذَلِکَ۔ [صحیح]
(٩٨١٣) عبدالرحمن بن یعمردیلمی (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات میں تھے، صحابہ (رض) کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا، انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا۔ اس نے آواز دی : اے اللہ کے رسول ! ، حج کیسے ہوتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کرے کہ حج عرفہ کا دن ہے۔ جو عرفات میں رات کو صبح کی نماز سے پہلے آگیا۔ اس کا حج مکمل ہے۔ منیٰ کے تین دن ہیں۔ جو دو دن میں جلدی کرے (کنکر مارنے میں) اس پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر اس کے بعد ایک آدمی آیا اس نے یہ اعلان کیا۔