(۹۸۱۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ وَزَکَرِیَّا وَدَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لاَمٍ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّئٍ فَوَاللَّہِ مَا جِئْتُ حَتَّی أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْضَیْتُ رَاحِلَتَی وَمَا تَرَکْتُ مِنْ ہَذِہِ الْحِبَالِ شَیْئًا إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَیْہِ فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَنْ شَہِدَ مَعَنَا ہَذِہِ الصَّلاَۃَ صَلاَۃَ الْفَجْرِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ وَکَانَ قَدْ وَقَفَ بِعَرَفَۃَ قَبْلَ ذَلِکَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَقَضَی تَفَثَہُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ زَکَرِیَّا فِیہِ وَکَانَ أَحْفَظُ الثَّلاَثَۃِ لِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَیْتُ ہَذِہِ السَّاعَۃَ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّئٍ قَدْ أَکْلَلْتُ رَاحِلَتَی وَأَتْعَبْتُ نَفْسِی فَہَلْ لِی مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ : مَنْ شَہِدَ مَعَنَا ہَذِہِ الصَّلاَۃَ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّی یُفِیضَ وَکَانَ قد وَقَفَ قَبْلَ ذَلِکَ بِعَرَفَۃَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ وَقَضَی تَفَثَہُ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَزَادَ دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ حِیْنَ بَرَقَ الْفَجْرُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بِشْرَانَ۔
[صحیح۔ ابوداود ۱۹۶۰۔ ابن ماجہ ۳۰۱۶]
(٩٨١٤) حارثہ بن لام (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مزدلفہ میں آیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں طی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آیا ہوں، قسم بخدا ! میں اپنے آپ کو تھکا کر آیا ہوں اور اپنی سواری کو بھی۔ میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا مگر میں نے اس پر ضرور وقوف کیا ہے۔ کیا میرے لیے حج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بندہ مزدلفہ میں نماز فجر میں ہمارے ساتھ حاضر ہوجاتا ہے اور اس نے وقوف عرفہ دن یا رات کے حصہ میں کیا ہوا ہے۔ اس کا حج مکمل ہوگیا اور میل کچیل ختم ہوگئی۔ سفیان کہتے ہیں کہ زکریا نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے، وہ تینوں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے ہیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اس وقت طی کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری اور اپنے آپ کو بھی تھکا دیا ہے، کیا میرے لیے حج ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ہمارے ساتھ اس نماز میں حاضر ہوا اور ہمارے ساتھ وقوف کیا اور رات و دن کے حصہ میں عرفہ کے اندر وقوف کیا اس کا حج مکمل ہوگیا ، گندگی دور ہوگئی ۔ سفیان کہتے ہیں کہ داود بن ابی معسر نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب فجر طلوع ہوئی۔