(۹۸۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی ( لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا) قَالَ قُلْتُ لَہُ : فَمَنْ قَتَلَہُ خَطَأً أَیُغَرَّمُ؟ قَالَ : نَعَمْ یُعَظِّمُ بِذَلِکَ حُرُمَاتِ اللَّہِ وَمَضَتْ بِہِ السُّنَنُ۔
[حسن۔ اخرجہ الشافعی ۶۲۹]
(٩٨٥٩) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطاء سے کہا : اللہ کا ارشاد ہے : { لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا } (المائدۃ : ٩٥) ” تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل مت کرو اور جس نے جان بوجھ کر قتل کیا تم میں سے۔ “ کہتے ہیں : میں نے کہا : جس نے غلطی سے قتل کیا اس پر چٹی ڈالی جائے گی ؟ فرمایا : ہاں۔ اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کی جائے گی۔ اس کے بارے میں سنتیں اور طریقے گزر چکے۔