(۹۸۶۰)قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ وَسَعِیدٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ : رَأَیْتُ النَّاسَ یَغْرَمُونَ فِی الْخَطَإِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : یُحْکَمُ عَلَیْہِ فِی الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ۔ وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : یُحْکَمُ عَلَی الْمُحْرِمِ فِی الْخَطَإِ۔
وَعَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَحْکُمُ عَلَیْہِ فِی الْخَطَإِ وَالْعَمْدِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِہِ ( عَفَا اللَّہُ عَمَّا سَلَفَ) قَالَ : عَمَّا کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ (وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللَّہُ مِنْہُ) قَالَ : وَمَنْ عَادَ فِی الإِسْلاَمِ فَیَنْتَقِمُ اللَّہُ مِنْہُ وَعَلَیْہِ فِی ذَلِکَ الْکَفَّارَۃُ ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ یُحْکَمُ عَلَیْہِ کُلَّمَا أَصَابَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۶۳۰]
(٩٨٦٠) ابن جریج حضرت عمرو بن دینار سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ غلطی کی وجہ سے بھی چٹی بھرتے تھے۔
(ب) حسن بصری (رض) فرماتی ہیں کہ غلطی اور جان بوجھ کر عمل کرنے میں محرم کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔
(ج) ابراہیم کہتے ہیں کہ محرم کے خلاف غلطی کی صورت میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
(د) حکم بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) غلطی اور جان بوجھ کر بھی عمل کرنے کی صورت میں محرم کے خلاففیصلہ کرتے تھے۔
(ح) عطاء بن ابی رباح اللہ تعالیٰ کے ارشاد { عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ } ” جو پہلے ہوچکا (جاہلیت میں) اللہ نے معاف کردیا “ اور { وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ } ” اور جو کوئی پلٹا تو اللہ اس سے انتقام لے گا۔ فرماتے ہیں : جو اسلام میں واپس آیا اللہ اس سے انتقام لے گا، اس پر کفارہ ہے۔
(خ) ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ جب وہ غلطی کرلے تو ان کو سزا دی جائے گی۔