(۹۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَارِ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاکِ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : إِنِّی قَتَلْتُ أَرْنَبًا وَأَنَا مُحْرِمٌ فَکَیْفَ تَرَی قَالَ : ہِیَ تَمْشِی عَلَی أَرْبَعٍ وَالْعَنَاقُ تَمْشِی عَلَی أَرْبَعٍ وَہِیَ تَأْکُلُ الشَّجَرَ وَالْعَنَاقُ تَأْکُلُ الشَّجَرَ وَہِیَ تَجْتَرُّ وَالْعَنَاقُ تَجْتَرُّ أَہْدِ مَکَانَہَا عَنَاقًا۔
(٩٨٨٥) عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس (رض) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : میں نے حالت احرام میں خرگوش کو قتل کیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟ فرماتے ہیں : یہ چار پاؤں پر چلتا ہے اور بکری کا بچہ بھی چار پاؤں پر چلتا ہے اور خرگوش درخت وغیرہ کھاتا ہے اور بکری کا بچہ بھی اور خرگوش بھی جگالی کرتا ہے اور بکری کا بچہ بھی جگالی کرتا ہے۔ اس کی جگہ ایک بکری کا بچہ قربان کر۔ [ضعیف ]