(۹۸۹۸)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْن عَبَّاسِ فِی قَوْلِہِ ( فَجَزَائٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ) قَالَ إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّیْدَ یُحْکَمُ عَلَیْہِ جَزَاؤُہُ فَإِن کَانَ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ ذَبَحَہُ وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِہِ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قُوِّمَ جَزَاؤُہُ دَرَاہِمَ ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَصَامَ مَکَانَ کُلِّ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا وَإِنَّمَا أُرِیدَ بِالطَّعَامِ الصِّیَامُ أَنَّہُ إِذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَائَ ہُ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۳۳۶۰]
(٩٨٩٨) مقسم ابن عباس (رض) سے اللہ کے ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } (المائدۃ : ٩٥) ” پس بدلہ مثل اس کے جو شکار کو قتل کیا جو پاؤں میں سے ہے۔ “
جب محرم آدمی شکار کرلے تو اس کے خلاف اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر اس کے پاس اس کا بدلہ اور مثل موجود ہو تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے۔ اگر اس کے پاس اس کا بدل اور مثل موجود نہ ہو تو درہم کی قیمت مقرر کی جائے۔ پھر کھانے کی قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ نصف صاع کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے۔ طعام سے میرا ارادہ روزہ کا تھا۔ جب اس نے کھانا پا لیا تو اس نے اس کا بدلہ بھی پا لیا۔