(۹۸۹۹)وَأَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ مِقْسَمًا فِی الَّذِی یُصِیبُ الصَّیْدَ لاَ یَکُونُ عِنْدَہُ جَزَاؤُہُ قَالَ : یُقَوَّمُ الصَّیْدُ دَرَاہِمَ وَتُقَوَّمُ الدَّرَاہِمُ طَعَامًا فَیَصُومُ لِکُلِ نِصْفِ صَاعٍ یَوْمًا۔
قَالَ شُعْبَۃُ وَقَالَ لِی أَبَانُ وَأَبُو مَرْیَمَ إِنَّہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ یَعْنِی أَبَانَ بْنَ تَغْلِبَ کَذَا فِی رِوَایَۃِ شُعْبَۃَ تَقْوِیمُ الصَّیْدَ وَفِی رِوَایَۃِ مَنْصُورٍ یُقَوَّمُ الْجَزَائُ وَمَنْصُورٌ أْحَسَنُہُمَا سِیَاقَۃً لِلْحَدِیثِ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ عَدَلَ فِی الْجَزَائِ إِذَا کَانَتْ شَاۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینَیْنِ فَإِذَا کَانَتْ بَدَنَۃً أَوْ بَقَرَۃً صِیَامَ یَوْمٍ بِإِطْعَامِ مِسْکِینٍ وَاحِدٍ وَقَالَ مُدٌّ مُدٌّ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۱۵۵]
(٩٨٩٩) حکم فرماتے ہیں کہ میں نے مقسم سے اس شخص کے بارے میں سنا جو شکار کو کرلیتا ہے لیکن اس کا بدلہ نہیں پاتا، اس پر شکار کی قیمت مقرر کی جائے گی درہموں میں اور درہموں سے کھانا خریدا جائے گا، یعنی اس کی قیمت مقرر کی جائے گی اور وہ ہر نصف صاع کے عوض روزہ رکھے گا۔
(ب) شعبہ کی روایت میں ہے کہ شکار کی قیمت لگائی جائے۔
(ج) منصور کی روایت میں ہے کہ اس کے بدلہ یا مثل کی قیمت لگائی جائے۔
(د) ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ وہ برابر ہو مثل کے یا بدلہ کے، جب بکری ہو تو ایک دن کا روزہ دو مسکینوں کے کھانے کے عوض ہے، لیکن جب اونٹ یا گائے ہو تو ایک دن کا روزہ ایک مسکین کے کھانے کے عوض ۔ فرماتے ہیں : وہ مد، مد ہوا کرتا ہے۔