(۹۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ شَیْئًا مِنَ الصَّیْدِ حُکِمَ عَلَیْہِ فِیہِ فَإِنْ قَتَلَ ظَبْیًا أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ شَاۃٌ تُذْبَحُ بِمَکَّۃَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَإِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِینَ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَإِنْ قَتَلَ إِیلاً أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَقَرَۃٌ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ أَطْعَمَ عِشْرِینَ مِسْکِینًا فَإِنْ لَمْ یَجِدْ صَامَ عِشْرِینَ یَوْمًا وَإِنْ قَتَلَ نَعَامَۃً أَوْ حِمَارَ وَحْشٍ أَوْ نَحْوَہُ فَعَلَیْہِ بَدَنَۃٌ مِنَ الإِبِلِ فَإِنْ لَمْ یَجِدْہُ أَطْعَمَ ثَلاَثِینَ مِسْکِینًا فَإِن لَمْ یَجِدْ صَامَ ثَلاَثِینَ یَوْمًا وَالطَّعَامُ مُدٌّ مُدٌّ شِبْعُہُمْ۔وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ وَمَا قَبْلَہَا تَدُلُّ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ عِنْدَہُ عَلَی التَّرْتِیبِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[ضعیف۔ اخرجہ الطبری فی تفسیر ۵/۴۱]
(٩٩٠٠) ابوطلحہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم کسی شکار کو قتل کرے تو اس کی مثل کا فیصلہ کیا جائے ، اگر اس نے ہرن یا اس کی مثل کو قتل کیا ہے تو محرم کے ذمہ بکری ہے جو مکہ میں ذبح کرے گا۔ اگر محرم بکری نہ پائے تو پھر چھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اگر کھانا بھی موجود نہ ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں۔ اگر وہ بارہ سنگھا یا اس کی مثل کو قتل کرتا ہے تو پھر محرم کے ذمہ گائے ہے، اگر گائے موجود نہ ہو تو پھر بیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا میسر نہ ہو تو پھر بیس دنوں کے روزے ۔ اگر اس نے شتر مرغ یا نیل گائے یا اس کی مثل چیز کو قتل کردیا تو پھر محرم کے ذمہ اونٹ کی قربانی ہے۔ اگر نہ پائے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے۔ اگر کھانا نہ ہو تو تیس ایام کے روزے رکھنا ہے اور کھانا ایک ایک مد ان کی سیرابی یا پیٹ کا بھرنا ہے یہ اور اس سے پہلے والی روایات ترتیب کا تقاضا کرتی ہیں۔