(۹۹۰۴)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ التَّیْمِیِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ مُحْرِمِینَ وَہُوَ غَیْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَی حِمَارًا وَحْشِیًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِہِ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ أَنْ یُنَاوِلُوہُ سَوْطَہُ فَأَبَوْا فَسَأَلَہُمْ رُمْحَہُ فَأَبَوْا فَأَخَذَ رُمْحَہُ فَشَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ فَأَکَلَ مِنْہُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ وَأَبَی بَعْضُہُمْ فَلَمَّا أَدْرَکُوا النَّبِیَّ -ﷺ سَأَلُوہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّمَا ہِیَ طُعْمَۃٌ أَطْعَمَکُمُوہَا اللَّہُ ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۱۷۲]
(٩٩٠٤) ابو قتادہ انصاری فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کے کسی راستے میں تھے۔ وہ اپنے محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور وہ محرم نہ تھے۔ انھوں نے نیل گائے دیکھی۔ اپنے گھوڑے پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا : مجھے کوڑا ہی پکڑا دو۔ انھوں نے انکار کردیا۔ اس نے نیزہ مانگا تب بھی انھوں نے انکار کردیا۔ ابوقتادہ نے اپنا نیزہ پکڑا اور سوار ہوگئے۔ جنگلی گدھے کا پیچھا کیا اور اس کو قتل کردیا۔ بعض صحابہ (رض) نے اس سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کردیا۔ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تو کھانا ہے جو اللہ رب العزت نے تمہیں کھلایا ہے۔