(۹۹۲۴)أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْعَرْجِ فِی یَوْمٍ صَائِفٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ غَطَّی وَجْہَہُ بِقَطِیفَۃِ أُرْجُوَانٍ ثُمَّ أُتِیَ بِلَحْمِ صَیْدٍ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : کُلُوا قَالُوا : أَلاَ تَأْکُلُ أَنْتَ قَالَ : إِنِّی لَسْتُ کَہَیْئَتِکُمْ إِنَّمَا صِیدَ مِنْ أَجْلِی۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۷۸۶]
(٩٩٢٤) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو عرج مقام پر صائف کے دن دیکھا ۔ آپ محرم تھے۔ انھوں نے اپنے چہرے کو سرخ چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پھر شکار کا گوشت لایا گیا۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کھاؤ۔ ساتھی کہنے لگے : کیا آپ نہ کھائیں گے۔ فرمانے لگے : میں تمہاری طرح نہیں کیوں کہ شکار کیا ہی میری وجہ سے گیا ہے۔