(۹۹۴۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَسَأَلْتُہَا عَنْ لَحْمِ الصَّیْدِ یُہْدِیہِ الْحَلاَلُ لِلْحَرَامِ فَقَالَتْ : اخْتَلَفَ فِیہَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ فَکَرِہَہُ بَعْضُہُمْ وَلَمْ یَرَ بَعْضُہُمْ بَأْسًا وَلَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن عساکر فی تاریخہ ۴۱/ ۳۷۹]
(٩٩٤١) عبداللہ بن شماس فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا اور شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو حلال محرم کو تحفہ دیتا ہے، تو انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کا اس میں اختلاف ہے۔ بعض تو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے لیکن اس میں کوئی حرج نہیں۔