(۹۹۴۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی وَلاَ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِی وَإِنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُعَرِّفٍ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ الإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَبُیُوتِنَا قَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۳۶]
(٩٩٤٥) عکرمہ، ابن عباس (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرم قرار دیا، یہ نہ مجھ سے پہلے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ صرف دن کی ایک گھڑی میں حلال قرار دیا گیا۔ اس کا گھاس، درخت نہ کاٹے جائیں گے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کروانے والا ہی اٹھاسکتا ہے، حضرت عباس (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! اذخر گھاس ہمارے لوہاروں اور گھروں میں استعمال ہوتا ہے، فرمایا : سوائے اذخر کے۔