(۹۹۴۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ وَالْبُسَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ وَقَالَ فَإِنَّہُ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُوفِ بُیُوتِنَا وَزَادَ قَالَ عِکْرِمَۃُ : ہَلْ تَدْرِی مَا لاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا أَنْ یُنَحِّیَہُ مِنَ الظِّلِّ وَیَنْزِلَ مَکَانَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٩٤٦) عبدالوہاب اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ حلال کیا گیا اور یہ ہمارے لوہاروں اور ہماری گھر کی چھتوں کے لیے ہے۔ اور عکرمہ نے زیادہ کیا ہے کہ کیا جانتے ہو اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا کہ سایہ سے اس کو دور کرکے اس کی جگہ خود جانا۔
(ب) محمد بن مثنی عبدالوہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ اور ہماری قبروں کے لیے۔