(۹۹۷۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی خَارِجَۃُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیہِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِع بْنِ مَکِیثٍ الْجُہَنِیِّ ثُمَّ الرَّبْعِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَہُمْ یَخْبِطُونَ عَلَی غَنَمِہِمْ مِنْ ہَذِہِ الثَّمَرَۃِ الْحَبْلَۃِ۔
قَالَ خَارِجَۃُ : وَہِیَ ثَمَرَۃُ السَّمُرَۃِ قَالَ جَابِرٌ : لاَ ثُمَّ لاَ لاَ یُخْبَطُ وَلاَ یُعْضَدُ حِمَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ ہُشُّوا ہَشًّا قَالَ جَابِرٌ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَظُنُّہُ قَالَ یَنْہَی أَنْ یُقْطَعَ الْمَسَدُ۔
قَالَ جَابِرٌ : وَالْمَسَدُ مِرْوَدٌ لِلْبَکْرَۃِ قَالَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ : الْحِمَی حَوْلَ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح لغیرہ]
(٩٩٧٩) خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور ہمارے غلام ان بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے ہیں، رسی وغیرہ کی مدد سے۔ خارجہ کہتے ہیں : یہ ببول کا درخت تھا اور جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ سے نہ تو درخت کاٹے جائیں لیکن آرام و سکون سے پتے جھاڑے جاسکتے ہیں، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع فرمایا تھا۔