(۹۹۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : کَانَ جَدِّی مَوْلًی لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَکَانَ یَلِی أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِیہَا بَقْلٌ وَقِثَّائٌ قَالَ فَرُبَّمَا أَتَانِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِصْفَ النَّہَارِ وَاضِعًا ثَوْبَہُ عَلَی رَأْسِہِ یَتَعَاہَدُ الْحِمَی أَنْ لاَ یُعْضَدَ شَجَرُہُ وَلاَ یُخْبَطَ قَالَ فَیَجْلِسُ إِلَیَّ فَیُحَدِّثُنِی وَأُطْعِمُہُ مِنَ الْقِثَّائِ وَالْبَقْلِ فَقَالَ لِی یَوْمًا : أَرَاکَ لاَ تَخْرُجُ مِمَّا ہَا ہُنَا قَالَ قُلْتُ : أَجَلْ۔ قَالَ : إِنِّی أَسْتَعْمِلُکَ عَلَی مَا ہَا ہُنَا فَمَنْ رَأَیْتَ یَعْضِدُ شَجَرًا أَوْ یَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَہُ وَحَبْلَہُ قَالَ قُلْتُ آخُذُ رِدَائَ ہُ؟ قَالَ : لاَ۔
[ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۱/ ۴۸]
(٩٩٨٠) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میرے دادا جو حضرت عثمان بن مظعون کے غلام تھے۔ ان کی زمین حضرت عثمان (رض) کے ساتھ ملتی تھی (یعنی ان کی زمین سے) اس میں ترکاریاں اور سبزیاں تھیں۔ کہتے ہیں : بعض اوقات میرے پاس حضرت عمر بن خطاب (رض) دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے۔ چراگاہ کی حفاظت فرماتے اور کہتے کہ اس کے درختوں وغیرہ کو نہ کاٹا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے۔ میں ان کو ککڑیاں کھلاتا۔ انھوں نے ایک دن مجھ سے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھیک ہے۔ فرمانے لگے : میں تجھے یہاں کا عامل بنانا چاہتا ہوں۔ جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اس کی چادر لے لوں۔ فرمانے لگے : نہیں۔