(۹۹۸۳)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی حَسَّانَ عَنْ عَلِیٍّ فِی قِصَّۃِ حَرَمِ الْمَدِینَۃِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِہَا وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَحْمِلَ فِیہَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَقْطَعَ مِنْہَا شَجَرَۃً إِلاَّ أَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیرَہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ہُدْبَۃَ : بَعِیرًا ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۵]
(٩٩٨٣) ابو حسان حضرت علی (رض) سے حرم مدینہ کے بارے میں فرماتے ہیں جو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا، فرمایا : اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ لڑائی کی غرض سے کسی کے لیے اسلحہ اٹھانا جائز نہیں اور کسی کے لیے اس کے درخت کاٹنا بھی جائز نہیں۔ صرف اس کے لیے جو اپنے اونٹوں کو چارہ دینا چاہے۔ ایک روایت میں ” ہدبۃً “ کے لفظ ہیں یعنی اونٹ۔