hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 9989

.

سنن البيهقي

9989
Sunan Al Bayhaqi
(۹۹۸۵) فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ حِکَایَۃً عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُخْرَجَ مِنْ تُرَابِ الْحَرَمِ وَحِجَارَتِہِ إِلَی الْحِلِّ شَیْئٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَدِمْتُ مَعَ أُمِّی أَوْ قَالَ جَدَّتِی مَکَّۃَ فَأَتَتْہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ شَیْبَۃَ فَأَکْرَمَتْہَا وَفَعَلْتْ بِہَا فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ : مَا أَدْرِی مَا أُکَافِئُہَا بِہِ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا بِقِطْعَۃٍ مِنَ الرُّکْنِ فَخَرَجْنَا بِہَا فَنَزَلْنَا أَوَّلَ مَنْزِلٍ فَذَکَرَ مِنْ مَرَضِہِمْ وَعِلَّتِہِمْ جَمِیعًا قَالَ فَقَالَتْ أُمِّی أَوْ جَدَّتِی : مَا أُرَانَا أُتِینَا إِلاَّ أَنَّا أَخَرَجْنَا ہَذِہِ الْقِطْعَۃَ مِنَ الْحَرَمِ فَقَالَتْ لِی وَکُنْتُ أَمْثَلَہُمْ : انْطَلِقْ بِہَذِہِ الْقِطْعَۃِ إِلَی صَفِیَّۃَ فَرُدَّہَا وَقُلْ لَہَا : إِنَّ اللَّہَ وَضْعَ فِی حَرَمِہِ شَیْئًا فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ یُخْرَجَ مِنْہُ۔ قَالَ عَبْدُ الأَعْلَی فَقَالُوا لِی : فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ تَحَیَّنَّا دُخُولَکَ الْحَرَمَ فَکَأَنَّمَا أُنْشِطْنَا مِنْ عُقُلٍ۔ [ضعیف]
(٩٩٨٥) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ناپسند کرتے تھے کہ حرم مکہ کی مٹی اور پتھروں کو حل کی جانب منتقل کیا جائے۔
(ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں : میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا۔ وہ صفیہ بنت شیبہ کے پاس آئی تھیں۔ اس نے ان کی عزت کی۔ صفیہ کہنے لگی : میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انھوں نے رکن کا ٹکڑا دیا۔ اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نیپہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ اس نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا۔ یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو۔ ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے۔ گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔