(۹۹۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : کَانَ ابْنٌ لأُمِّ سُلَیْمٍ یُقَالُ لَہُ أَبُو عُمَیْرٍ کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ رُبَّمَا مَازَحَہُ إِذَا دَخَلَ عَلَی أُمِّ سُلَیْمٍ فَدَخَلَ یَوْمًا فَوَجَدَہُ حَزِینًا فَقَالَ : مَا لأَبِی عُمَیْرِ حَزِینٌ ۔قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَاتَ نُغَیْرُہُ الَّذِی کَانَ یَلْعَبُ بِہِ جَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ یَقُولُ : أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٩٩٩٣) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم کا ایک بیٹا تھا، اس کو ابو عمیر کہا جاتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے خوش طبعی فرماتے، جب ام سلیم کے پاس آتے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو وہ پریشان تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ابوعمیر ! غمگین کیوں ہے، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری چڑیا مرگئی ہے جس کے ساتھ میں کھیلا کرتا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنے لگے : اے ابو عمیر ! چڑیا نے کیا کیا۔