حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ سورة هود آية 5. وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَسْتَغْشُونَ يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ سِيءَ بِهِمْ سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ. وَضَاقَ بِهِمْ بِأَضْيَافِهِ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ بِسَوَادٍ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: أُنِيبُ أَرْجِعُ.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس (رض) نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس (رض) سے کہ يستغشونیعنی اپنے سر چھپالیتے ہیں۔ سيء بهمیعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ وضاق بهمیعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ بقطع من الليلیعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا أنيبکے معنی میں رجوع کرتا ہوں (متوجہ ہوتا ہوں) ۔