وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تَقْرِضُهُمْ: تَتْرُكُهُمْ، وَكَانَ لَهُ ثُمُرٌ: ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ، وَقَالَ غَيْرُهُ: جَمَاعَةُ الثَّمَرِ، بَاخِعٌ، مُهْلِكٌ، أَسَفًا: نَدَمًا الْكَهْفُ الْفَتْحُ فِي الْجَبَلِ، وَالرَّقِيمُ الْكِتَابُ مَرْقُومٌ مَكْتُوبٌ مِنَ الرَّقْمِ، رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ: أَلْهَمْنَاهُمْ صَبْرًا، لَوْلَا أَنْ رَبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا شَطَطًا: إِفْرَاطًا الْوَصِيدُ الْفِنَاءُ جَمْعُهُ، وَصَائِدُ وَوُصُدٌ، وَيُقَالُ الْوَصِيدُ الْبَابُ، مُؤْصَدَةٌ: مُطْبَقَةٌ آصَدَ الْبَابَ، وَأَوْصَدَ، بَعَثْنَاهُمْ: أَحْيَيْنَاهُمْ، أَزْكَى: أَكْثَرُ، وَيُقَالُ: أَحَلُّ، وَيُقَالُ: أَكْثَرُ رَيْعًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُكْلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ: لَمْ تَنْقُصْ، وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: الرَّقِيمُ اللَّوْحُ مِنْ رَصَاصٍ كَتَبَ عَامِلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ، ثُمَّ طَرَحَهُ فِي خِزَانَتِهِ، فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى آذَانِهِمْ فَنَامُوا، وَقَالَ غَيْرُهُ: وَأَلَتْ تَئِلُ تَنْجُو، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: مَوْئِلًا: مَحْرِزًا، لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا: لَا يَعْقِلُونَ.
مجاہد نے کہا تقرضهمکا معنی ان کو چھوڑ دیتا تھا، کترا جاتا تھا۔ وكان له ثمرمیں ثمرسے مراد سونا روپیہ ہے۔ دوسروں نے کہا ثمریعنی پھل کی جمع ہے۔ باخعکا معنی ہلاک کرنے والا۔ أسفاندامت اور رنج سے۔ كهفپہاڑ کا کھوہ یا غار۔ الرقيمکے معنی لکھا ہوا بمعنی مرقومیہ اسم مفعول کا صیغہ ہے رقمسے۔ ربطنا على قلوبهمہم نے ان کے دلوں میں صبر ڈالا جیسے سورة قصص میں ہے۔ لولا أن ربطنا على قلبها (وہاں بھی صبر کے معنی ہیں) ۔ شططا حد سے بڑھ جانا۔ مرفقا جس چیز پر تکیہ لگائے۔ تزاورزور سے نکلا ہے یعنی جھک جاتا تھا اسی سے ازورہے بہت جھکنے والا۔ فجوةکشادہ جگہ اس کی جمع فجواتاور فجاءآتی ہے جیسے زكوةکی جمع زكاءہے۔ اور وصيداآنگن، صحن اس کی جمع وصائداور وصدہے۔ بعضوں نے کہا وصيدکے معنی دروازہ۔ مؤصدةکے معنی بند کی ہوئی عرب لوگ کہتے ہیں آصد البابیعنی اس نے دروازہ بند کردیا۔ بعثناهمہم نے ان کو زندہ کیا کھڑا کردیا۔ أزكى طعامااور أوصد البابیعنی جو بستی کی اکثر خوراک ہے یا جو کھانا خوب حلال کا ہو، خوب پک کر بڑھ گیا ہو۔ أكلهااس کا میوہ، یہ ابن عباس نے کہا ہے۔ ولم تظلممیوہ کم نہیں ہوا۔ اور سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض) سے نقل کیا۔ رقيموہ ایک تختی ہے سیسے کی اس پر اس وقت کے حاکم نے اصحاب کہف کے نام لکھ کر اپنے خزانے میں ڈال دی تھی۔ فضرب الله على آذانهماللہ نے ان کے کان بند کردیئے۔ (ان پر پردہ ڈال دیا) وہ سو گئے۔ ابن عباس کے سوا اور لوگوں نے کہا۔ موئلاوال يئلسے نکلا ہے۔ یعنی نجات پائے اور مجاہد نے کہا موئلمحفوظ مقام۔ لا يستطيعون سمعاکے معنی وہ عقل نہیں رکھتے۔