حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، قَالَ: أَلَا تُصَلِّيَانِ ؟. رَجْمًا بِالْغَيْبِ: لَمْ يَسْتَبِنْ، فُرُطًا: يُقَالُ نَدَمًا، سُرَادِقُهَا: مِثْلُ السُّرَادِقِ وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ يُحَاوِرُهُ مِنَ الْمُحَاوَرَةِ، لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي: أَيْ لَكِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي، ثُمَّ حَذَفَ الْأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الْأُخْرَى، وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا، يَقُولُ: بَيْنَهُمَا، زَلَقًا: لَا يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ، هُنَالِكَ الْوِلَايَةُ: مَصْدَرُ الْوَلِيِّ، عُقُبًا: عَاقِبَةً، وَعُقْبَى وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ قِبَلًا، وَقُبُلًا وَقَبَلًا اسْتِئْنَافًا، لِيُدْحِضُوا: لِيُزِيلُوا الدَّحْضُ الزَّلَقُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی (رض) نے خبر دی اور انہیں علی (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت ان کے اور فاطمہ (رض) کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے (آخر حدیث تک) ۔ رجما بالغيبیعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ فرطاندامت، شرمندگی۔ سرادقهایعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ يح اوره، محاورةسے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ لكنا هو الله ربياصل میں لكن أنا هو الله ربيتھا أناکا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کردیا لكناہوگیا۔ خلالهما نهرایعنی بينهماان کے بیچ میں۔ زلقاچکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے (جمے نہیں) ۔ هنالک الولاية، ولايت، وليکا مصدر ہے۔ عقبا، عاقبتاسی طرح عقبىاور عقبةسب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ قبلااور قبلااور قبلا (تینوں طرح پڑھا ہے) یعنی سامنے آنا۔ ليدحضوا، دحضسے نکلا ہے یعنی پھسلانا (مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں) ۔