فَلاَ يَرْبُو مَنْ أَعْطَى يَبْتَغِي أَفْضَلَ فَلاَ أَجْرَ لَهُ فِيهَا. قَالَ مُجَاهِدٌ: يُحْبَرُونَ: يُنَعَّمُونَ، يَمْهَدُونَ: يُسَوُّونَ الْمَضَاجِعَ الْوَدْقُ الْمَطَرُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ: فِي الْآلِهَةِ وَفِيهِ، تَخَافُونَهُمْ: أَنْ يَرِثُوكُمْ كَمَا يَرِثُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، يَصَّدَّعُونَ: يَتَفَرَّقُونَ، فَاصْدَعْ، وَقَالَ غَيْرُهُ: ضُعْفٌ وَضَعْفٌ لُغَتَانِ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: السُّوأَى: الْإِسَاءَةُ جَزَاءُ الْمُسِيئِينَ.
فلا يربو یعنی جو سود پر قرض دے اس کو کچھ ثواب نہیں ملے گا۔ مجاہد نے کہا يحبرونکا معنی نعمتیں دیئے جائیں گے۔ فلا نفسهم يمهدونیعنی اپنے لیے بسترے، بچھونے بچھاتے ہیں (قبر میں یا بہشت میں) ۔ الودقمینہ کو کہتے ہیں۔ ابن عباس نے کہا کہ یہ آیت هل لکم مما ملکت أيمانکم اللہ پاک اور بتوں کی مثال میں اتری ہے۔ تخافونهمیعنی تم کیا اپنے لونڈی غلاموں سے یہ خوف کرتے ہو کہ وہ تمہارے وارث بن جائیں گے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہو۔ يصدعونکے معنی جدا جدا ہوجائیں گے۔ فاصدعکا معنی حق بات کھول کر بیان کر دے اور بعض نے کہا ضعفاور ضعفضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں قرآت ہیں۔ مجاہد نے کہا السوأىکا معنی برائی یعنی برائی کرنے والوں کا بدلہ برا ملے گا۔