حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ: أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى، قَالَ أَبُو طَالِبٍ: آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ، يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُولِي الْقُوَّةِ: لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ، لَتَنُوءُ: لَتُثْقِلُ، فَارِغًا: إِلَّا مِنْ ذِكْرِ مُوسَى، الْفَرِحِينَ: الْمَرِحِينَ، قُصِّيهِ: اتَّبِعِي أَثَرَهُ، وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَقُصَّ الْكَلَامَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ، عَنْ جُنُبٍ: عَنْ بُعْدٍ، عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ، وَعَنِ اجْتِنَابٍ أَيْضًا يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ، يَأْتَمِرُونَ: يَتَشَاوَرُونَ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي، وَاحِدٌ، آنَسَ: أَبْصَرَ الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ، وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالْأَفَاعِي وَالْأَسَاوِدُ، رِدْءًا: مُعِينًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُصَدِّقُنِي، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَنَشُدُّ: سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا مَقْبُوحِينَ مُهْلَكِينَ، وَصَّلْنَا: بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ، يُجْبَى: يُجْلَبُ، بَطِرَتْ: أَشِرَتْ، فِي أُمِّهَا رَسُولًا: أُمُّ الْقُرَى مَكَّةُ وَمَا حَوْلَهَا، تُكِنُّ: تُخْفِي أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ أَخْفَيْتُهُ وَكَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ، وَيْكَأَنَّ اللَّهَ: مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ، يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ: يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چچا ! آپ صرف کلمہ لا إله إلا اللهپڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے ؟ نبی کریم ﷺ باربار ان سے یہی کہتے رہے (کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے (کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے ؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے لا إله إلا اللهپڑھنے سے انکار کردیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ما کان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشرکين نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم ﷺ سے کہا گیا إنک لا تهدي من أحببت ولکن الله يهدي من يشاء کہ جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کرسکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔ ابن عباس (رض) نے کہا أولي القوةسے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ لتنوءکا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ فارغاکا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ الفرحينکا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ قصيهیعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ قصصکے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورة یوسف میں فرمایا نحن نقص عليك، عن جنبیعنی دور سے عن جنابةکا بھی یہی معنی ہے اور عن اجتنابکا بھی یہی ہے۔ يبطش بہ کسرہ طاء اور يبطش.بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ يأتمرونمشورہ کر رہے ہیں۔ عدواناور عدواور تعديسب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ آنسکا معنی دیکھنا۔ جذوةلکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور شهابجو آیت اواتیکم بشهاب قبسمیں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ حياتیعنی سانپوں کی مختلف قسمیں (جیسے) جان، افعی، اسود وغیرہ ردء ایعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس (رض) نے يصدقنيبہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا سنشدکا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں جعلت له عضدا.۔ مقبوحين کا معنی ہلاک کئے گئے۔ وصلناہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ يجبىکچھے آتے ہیں۔ بطرتشرارت کی۔ في أمها رسولا، أم القرىمکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ تكنکا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں أکننت یعنی میں نے اس کو چھپالیا۔ کننتهکا بھی یہی معنی ہے۔ ويكأن اللهکا معنی ألم تر أن اللهکے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔