أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ فِي عُنُقِهَا التَّعْوِيذُ أَوْ الْكِتَابُ قَالَ إِنْ كَانَ فِي أَدِيمٍ فَلْتَنْزِعْهُ وَإِنْ كَانَ فِي قَصَبَةٍ مُصَاغَةٍ مِنْ فِضَّةٍ فَلَا بَأْسَ إِنْ شَاءَتْ وَضَعَتْ وَإِنْ شَاءَتْ لَمْ تَفْعَلْ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ
عبدالملک بیان کرتے ہیں عطاء سے ایسی حائضہ کے بارے میں سوال کیا گیا جس حائضہ عورت کی گردن میں کوئی تعویذ یا تحریر ہو۔ انھوں نے جواب دیا اگر وہ چمڑے میں ہیں تو اسے اتار دے اور اگر چاندی کی ڈبیہ میں ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر چاہے تو اسے اتار دے اور اگر چاہے تو ایسا نہ کرے۔
امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے سوال کیا گیا آپ بھی یہی کہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ ہاں !