أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ حَدَّثَنَا عَنْ مَطَرٍ قَالَ سَأَلْتُ الْحَسَنَ وَعَطَاءً عَنْ الرَّجُلِ تَكُونُ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فِي سَفَرٍ فَتَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ قَالَا تَتَيَمَّمُ وَتُصَلِّي قَالَ قُلْتُ لَهُمَا يَطَؤُهَا زَوْجُهَا قَالَا نَعَمْ الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ
مطر بیان کرتے ہیں : میں نے حسن اور عطاء سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس کی بیوی اس کے ساتھ سفر میں شریک ہو۔ اسے حیض آجائے پھر وہ عورت پاک ہوجائے تو اسے (غسل کرنے کے لیے پانی نہ ملے) تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا : وہ عورت تیمم کر کے نماز پڑھے گی۔
مطر کہتے ہیں میں نے ان دونوں سے سوال کیا کیا اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے ان دونوں نے جواب دیا : ہاں کیونکہ نماز اس سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔