حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ فِي ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِأُمٍّ فَقِيلَ لِعَلِيٍّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُعْطِيهِ الْمَالَ كُلَّهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا وَلَوْ كُنْتُ أَنَا أَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ وَمَا بَقِيَ كَانَ بَيْنَهُمْ
حضرت علی (رض) کے بارے میں منقول ہے ان کی خدمت میں دو چچازاد بھائیوں کا مسئلہ لایا گیا جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا تو حضرت علی (رض) سے یہ کہا گیا کہ حضرت ابن مسعود ایسے شخص کو پورے مال کا حق دار قرار دیتے ہیں تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا اگر وہ (واقعی عالم ہوتے تو یہ فتوی نہ دیتے) میں اس کو چھٹا حصہ دیتا ہوں جبکہ بقیہ مال ان وارثوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا۔