أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمُّ سُلَيْمٍ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ إِنَّ خَيْرَكُنَّ الَّتِي تَسْأَلُ عَمَّا يَعْنِيهَا إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَلِلنِّسَاءِ مَاءٌ قَالَ نَعَمْ فَأَنَّى يُشْبِهُهُنَّ الْوَلَدُ إِنَّمَا هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلیم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت ام سلمہ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر کوئی عورت ویسا ہی خواب دیکھے جو مرد دیکھتے ہیں تو کیا حکم ہے ام سلمہ نے کہا تمہارا ستیا ناس ہو تم نے عورتوں کو شرمندہ کردیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلیم کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں سب سے بہتر عورت وہ ہے جو ضروری مسائل کے بارے میں دریافت کرے۔ پھر آپ نے ام سلیم سے فرمایا اگر عورت کو منی نظر آجائے تو اسے غسل کرلینا چاہیے سیدہ ام سلمہ نے عرض کی کیا خواتین کی بھی منی ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا ورنہ بچہ ان سے مشابہہ کیسے ہوسکتا ہے وہ بھی اس بارے میں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔