1172 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلاَةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمْ يَقْرَأْ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) لأُمِّ الْقُرْآنِ وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا لِلسُّورَةِ الَّتِى بَعْدَهَا وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِى حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلاَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يَا مُعَاوِيَةُ أَسَرَقْتَ الصَّلاَةَ أَمْ نَسِيتَ قَالَ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ ذَلِكَ إِلاَّ قَرَأَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) لأُمِّ الْقُرْآنِ وَلِلسُّورَةِ الَّتِى بَعْدَهَا وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِى سَاجِدًا.
كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
1172 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ (رض) نے مدینہ منورہ میں نماز ادا کی انھوں نے اس میں بلند آواز میں قرات کی ، لیکن بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی نہ انھوں نے سو رہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی نہ بعد والی سورت سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، اسی طرح جھکتے ہوئے (یعنی رکوع میں جاتے ہوئے یا سجدے میں جاتے ہوئے) انھوں نے تکبیر بھی نہیں کہی جب انھوں نے نماز مکمل کرلی اور سلام پھیراتو جن مہاجرین اور انصار تک ان کی آواز پہنچتی تھی انھوں نے بلند آواز میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا اے حضرت معاویہ کیا آپ نے نماز میں کمی کی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد انھوں نے جو بھی نماز ادا کی اس میں بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، سورة فاتحہ سے پہلے بھی اور فاتحہ کے بعد والی سورت سے پہلے بھی (بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔
اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔