1173 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ السِّنْدِىِّ بْنِ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمْ يَقْرَأْ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) حِينَ افْتَتَحَ الْقُرْآنَ وَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَتَاهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوا أَتَرَكْتَ صَلاَتَكَ يَا مُعَاوِيَةُ أَنَسِيتَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَلَمَّا صَلَّى بِهِمُ الأُخْرَى قَرَأَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ). قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَى الْجَهْرَ بِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَمِنْ أَزْوَاجِهِ غَيْرُ مَنْ سَمَّيْنَا كَتَبْنَا أَحَادِيثَهُمْ بِذَلِكَ فِى بَابِ الْجَهْرِ بِهَا مُفْرَدًا وَاقْتَصَرْنَا هَا هُنَا عَلَى مَنْ قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ طَلَبًا لِلاِخْتِصَارِ وَالتَّخْفِيفِ وَكَذَلِكَ ذَكَرْنَا فِى ذَلِكَ الْمَوْضِعِ أَحَادِيثَ مَنْ جَهَرَ بِهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ وَالْخَالِفِينَ بَعْدَهُمْ رَحِمَهُمُ اللَّهُ.
1173 ۔ اسماعیل بن عبید اپنے والد کے حوالے سے اپنا دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان (رض) حج یا عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ تشریف لائے انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قرات کے آغاز میں (بلند آواز میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی اور سورة فاتحہ پڑھنی شروع کردی ، جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو مہاجرین اور انصار مسجد کے مختلف گوشوں سے اٹھ کر ان کے پاس آئے اور بولے : اے معاویہ ! آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم جان بوجھ کر ترک کی ہے یا اسے پڑھنا بھول گئے تھے۔
(راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ (رض) نے ان لوگوں کو اگلی نماز پڑھائی تو اس میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی) ۔
امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بارے میں جو روایات ہم نے نقل کی ہیں ان کے علاوہ بعض دیگر صحابہ نے اور ازواج مطہرات نے بھی یہ بات نقل کی ہے۔ ہم نے بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے مسئلے میں ان روایات کو الگ طور پر اکٹھا کیا ہے یہاں ہم نے اختصار کے ساتھ وہ روایات نقل کی ہیں جو پہلے گزر گئی تھیں تاکہ اختصار اور تلیخیص موجود رہے۔ اسی طرح ہم نے اس مقام پر وہ روایات بھی نقل کی ہیں جو یہ واضح کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم میں سے کون سے حضرات بلند آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے۔