1229 - تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الأَشْهَلِىُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا وَالْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الأَشْهَلِىُّ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ». قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ الْمُخَرِّمِىُّ يَقُولُ هُوَ ثِقَةٌ. يَعْنِى مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ.
1229 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ قرات کرے تو تم خاموش رہو۔
امام ابوعبدالرحمن نے یہ بات بیان کی ہے مخرمی کہتے ہیں ، یہ شخص ثقہ ہے یعنی محمد بن سعد نامی راوی (ثقہ) ہے) ۔