1261 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا كَبَّرَ فِى الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى مَا تَقُولُ فِى صَلاَتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ « أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِى مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْنِى مِنْ خَطَايَاىَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ ».
1261 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے آغاز میں جب تکبیر کہتے تھے تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر کہنے اور قرات کرنے کے درمیان میں کیا پڑھتے تھے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں یہ پڑھتاہوں :
اے اللہ ! تو میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اور اے اللہ مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کردیاجاتا ہے اے اللہ میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھودے۔