1426 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنَكُمْ وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ فَإِلَىَّ ». قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَّطْنَا فِى صَلاَتِنَا . فَقَالَ « لاَ تَفْرِيطَ فِى النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِى الْيَقَظَةِ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا ».
1426 ۔ حضرت ابوقتادہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اگر کوئی تمہارا دنیاوی کام ہوتویہ تمہا امعاملہ ہے اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو تو وہ میری طرف آئے گا، ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ہم اپنی نماز کے بارے میں تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہوتی، تفریط بیداری میں ہوتی ہے ، جب ایسی صورت حال ہوجائے تو اس نماز کو (بیدار ہونے کے بعد) ادا کرلو یا اگلے دن اس کے وقت میں ادا کرلو۔