1427 - حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِىُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَوْمُهُمْ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِى الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِىَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ».
قَالَ فَسَمِعَنِى عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ لِى يَا فَتَى احْفَظْ مَا كُنْتَ تُحَدِّثُ فَإِنِّى قَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- .
1427 ۔ حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لوگوں کے نماز کے وقت سوئے رہ جانے کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہے ، تفریط بیداری میں ہے جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا نماز کے وقت سویارہ جائے توجی سے ہی اسے یاد آئے اس وقت اسے ادا کرلے یا اگلے دن اسی نماز کے وقت میں (قضاء کے طور پر) اسے ادا کرے۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین (رض) نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو مجھ سے فرمایا : اے نوجوان تم جو حدیث بیان کررہے ہو، اسے یاد رکھنا کیونکہ میں نے بھی یہ حدیث نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہوئی ہے۔