1532 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِىُّ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِىِّ عَنْ أَبِى عَلْقَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَآنِى ابْنُ عُمَرَ أُصَلِّى بَعْدَ الْفَجْرِ فَحَصَبَنِى وَقَالَ يَا يَسَارُ كَمْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لاَ أَدْرِى . قَالَ لاَ دَرَيْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّى هَذِهِ الصَّلاَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْنَا تَغَيُّظًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ « لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ أَنْ لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلاَّ سَجْدَتَيْنِ ».
1532 ۔ یسار بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے مجھے صبح صادق ہوجانے کے بعد (نفل) نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا، اے یسار ! تم نے کتنی رکعت ادا کی ہیں ؟ میں نے جواب دیا مجھے یاد نہیں ہے تو انھوں نے فرمایا : تمہیں سمجھ بھی نہیں ہے ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم یہ نماز (یعنی اس وقت میں نوافل) ادا کر ہے تھے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا تمام موجود لوگ غیر موجود افراد تک یہ بات پہنچادیں : صبح صادق ہوجانے کے بعد (نوافل میں) صرف دو رکعت (سنت) ادا کی جاسکتی ہے۔