1567 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى أُمَامَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ قَائِدَ أَبِى حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَإِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الأَذَانَ صَلَّى عَلَى أَبِى أُمَامَةَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ - قَالَ - فَمَكَثَ كَذَلِكَ حِينًا لاَ يَسْمَعُ الأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ إِلاَّ فَعَلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَةِ أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لأَبِى أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ مَا هُوَ قَالَ أَىْ بُنِىَّ هُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَّعَ بِالْمَدِينَةِ فِى هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِى بَيَاضَةَ يُقَالُ لَهُ نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ قَالَ قُلْتُ وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَرْبَعُونَ رَجُلاً .
1567 محمد بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبدالرحمن بن کعب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کو ساتھ لے کرجایا کرتا تھا ‘ جب ان کی بینائی رخصت ہوگئی تھی ‘ ایک مرتبہ میں انھیں لے کر جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے گیا ‘ تو انھوں نے اذان کی آواز سننے کے بعد حضرت ابوامامہ کے لیے دعائے رحمت کی اور دعائے مغفرت کی اور پھر کچھ دیراسی حالت میں رہے وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنا کرتے تھے ‘ وہ ایساہی کیا کرتے تھے ‘ میں نے ان سے دریافت کیا : اے اباجان ! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو حضرت ابوامامہ (رض) کے لیے دعائے استغفار کرتے ہیں ‘ اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا : اے میرے بیٹے ! وہ (حضرت ابوامامہ (رض)) پہلے فرد ہیں جنہوں نے مدینہ میں بنو بیاضہ کے پتھر یلے میدان کی پست زمین میں جمعہ کے آغاز کیا تھا ‘ اس جگہ کا نام ” نقیع الخضمات “ ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی ؟ تو انھوں نے جواب دیا : چالیس افراد تھے۔