159 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَدَمِىُّ حَدَّثَنِى السَّرِىُّ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو سَهْلٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِى عَوَانَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَأَمَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَوْضِعِ خَلاَئِهِ أَنْ يُسْتَقْبَلَ بِهِ الْقِبْلَةُ. بَيْنَ خَالِدٍ وَعِرَاكٍ خَالِدُ بْنُ أَبِى الصَّلْتِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، کچھ لوگ پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے اور پیٹھ کرنے کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پاخانہ کی ایسی جگہ پر جاکر قضائے حاجت کرنے کی ہذدایت کی جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔
امام دار قطنی (رح) بیان کرتے ہیں : اس روایت کی سند میں خالد نامی راوی اور عراک نامی راوی کے درمیان خالد بن ابوصلت نامی راوی ہے۔