160 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ كَانُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ مُذْ كُنْتُ رَجُلاً وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَهُ فَقَالَ عِرَاكٌ قَالَتْ عَائِشَةُ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَهُ فَأَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَحُوِّلَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ. وَهَذَا مِثْلُهُ . تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ عَنْ خَالِدٍ.
خالد جزء بیان کرتے ہیں : وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھے، انھوں نے یہ فرمایا : میں جب سے جوان ہوا ہوں، میں نے کبھی بھی قبلہ کی طرف رخ کرکے پاخانہ نہیں کیا، عراک بن مالک ان کے پاس موجود تھے، عراک نے کہا : سیدہ عائشہ (رض) نے یہ بات بیان کی ہے : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا پتہ چلا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیت الخلاء کے بارے میں یہ حکم دیا، تو اس بیت الخلاء کا رخ قبلہ کی طرف کردیا گیا۔ اسی کی مانند ایک اور روایت منقول ہے۔