1605 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّازُ أَبُو الطَّيِّبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلاَبِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِيدَانَ السُّلَمِىِّ قَالَ شَهِدْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ أَبِى بَكْرٍ فَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَخُطْبَتُهُ قَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ شَهِدْتُهَا مَعَ عُمَرَ وَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَخُطْبَتُهُ إِلَى أَنْ أَقُولَ انْتَصَفَ النَّهَارُ ثُمَّ شَهِدْتُهَا مَعَ عُثْمَانَ فَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَخُطْبَتُهُ إِلَى أَنْ أَقُولَ زَالَ النَّهَارُ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَابَ ذَلِكَ وَلاَ أَنْكَرَهُ .
:1605 عبداللہ بن سیدان سلمی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا کی ہے، ان کی نماز اور ان کا خطبہ نصف نہار سے پہلے ہوتے تھے ‘ پھر مجھے حضرت عمر (رض) کی اقتداء میں جمعے کا موقع ملاتوان کی نماز اور ان کا خطبہ اتنی دیر میں ہوتے تھے کہ میں یہ سمجھتا تھا ‘ اب دن ڈھل چکا ہے تو میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ جس نے ان پر اس بارے میں اعتراض ہو یا انکار کیا ہو۔