1644 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ بْنُ أَبِى عَيَّاشٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِىِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِى وِتْرِهِ فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّى أُمَّ عَبْدٍ فَقُلْتُ بِيتِى مَعَ نِسَائِهِ فَانْظُرِى كَيْفَ يَقْنُتُ فِى وِتْرِهِ فَأَتَتْنِى فَأَخْبَرَتْنِى أَنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. أَبَانُ مَتْرُوكٌ.
1644 حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک رات میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ٹھہر گیا تاکہ اس بات کا جائزہ لوں کہ وتر کی نماز میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی ‘ پھر میں نے اپنی والدہ سیدہ ام عبدکو بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ کے ہاں ٹھہریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کی نماز میں دعائے قنوت کیسے پڑھتے ہیں ‘ تو میری والدہ نے آکر مجھے یہ بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی تھی۔ اس روایت کا ایک راوی ابان متروک ہے۔