1722 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.قَالَ وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى صَعْصَعَةَ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ.قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى فَرْوَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى فَرْوَةَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ الْحَضْرَمِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ.قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكَبِّرُونَ فِى صَلاَةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلاَةِ الظُّهْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يُكَبِّرُونَ فِى الصُّبْحِ وَلاَ يُكَبِّرُونَ فِى الظُّهْرِ .قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ أَبِى عَلِىٍّ اللَّهَبِىُّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَنْدَرٍ الأَسْلَمِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فُلاَنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَبَّرَ بِنَا عُثْمَانُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِى الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى أَنْ صَلَّى الظُّهْرَ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَكَبَّرَ فِى الصُّبْحِ وَلَمْ يُكَبِّرْ فِى الظُّهْرِ. قَالَ وَحَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانَا يُصَلِّيَانِ الظُّهْرَ يَوْمَ الصَّدَرِ بِالْمُحَصَّبِ وَلاَ يُكَبِّرَانِ.قَالَ وَحَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ يُكَبِّرُ فِى الصَّلَوَاتِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلاَثًا. قَالَ وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ.
1722 نافع ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے میں یہ بات نقل کرتے ہیں لوگ (یعنی صحابہ کرام) قربانی کے دن ظہر کی نماز کے بعد تکبیر کہنا شروع کرتے تھے اور ایام تشریق کے آخری دن ظہر کی نماز تک تکبیر کہا کرتے تھے ‘ یہ لوگ صبح کی نماز میں تکبیر کہتے تھے اور ظہر کی نماز میں نہیں کہتے تھے۔
عبداللہ نامی راوی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جب حضرت عثمان غنی (رض) محصور تھے تو انھوں نے ہمارے سامنے قربانی کے دن ظہر کی نماز سے تکبیر کہنی شروع کی اور ایام تشریق کے آخری دن ظہر کی نماز ادا کرنے تک انھوں نے تکبیر کہی (ایام تشریق کے آخری دن) انھوں نے صبح کی نماز میں تکبیر کہی تھی ظہر کی نماز میں نہیں کہی۔
عبداللہ نامی راوی حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں یہ دونوں حضرات واپسی کے دن دادی محصب میں ظہر کی نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد تکبیر نہیں کہتے تھے۔
حضرت جابربن عبداللہ (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ ایام تشریق میں تمام نمازوں کے بعد تکبیر کہا کرتے تھے ‘ وہ تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرتے تھے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے منقول ہے۔