1752 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الْخَوْفِ فِى بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلاَءِ إِلَى مُصَافِّ هَؤُلاَءِ وَجَاءَ هَؤُلاَءِ إِلَى مُصَافِّ هَؤُلاَءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً.
1752 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جنگ کے دوران نماز خوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کی اقتداء میں کھڑا ہوگیا اور دوسرا گروہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دشمن کے درمیان کھڑارہا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی ‘ پھر یہ لوگ ان دوسرے لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آگئے ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی ایک رکعت پڑھائی ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب سمیت سلام پھیردیا ‘ پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت بعد میں ادا کرلی۔