1753 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى عَيَّاشٍ الزُّرَقِىِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- الظُّهْرَ فَقَالُوا قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا تَأْتِى عَلَيْهِمُ الآنَ صَلاَةٌ هِىَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ. قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ الآيَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ( وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاَةَ ) قَالَ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَأَمَرَهُمُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخَذُوا السِّلاَحَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا - قَالَ - ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا - قَالَ - ثُمَّ سَجَدَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِالصَّفِّ الَّذِى يَلِيهِ - قَالَ - وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِى مَكَانِهِمْ - قَالَ - ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاَءِ فِى مُصَافِّ هَؤُلاَءِ وَجَاءَ هَؤُلاَءِ إِلَى مُصَافِّ هَؤُلاَءِ - قَالَ - ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَالصَّفُّ الَّذِى يَلِيهِ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا جَلَسَ الآخَرُونَ سَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ - قَالَ - فَصَلاَّهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِى أَرْضِ بَنِى سُلَيْمٍ.
1753 حضرت ابوعیاش زرقی بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس عسفان کے مقام پر موجود تھے۔ مشرکین ہمارے سامنے آئے ان کے امیرخالد بن ولید تھے۔ وہ مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں آگئے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ‘ ان مشرکین نے کہا یہ اس وقت ایسی حالت میں ہیں ‘ اگر ہم ان لوگوں پر ان کی غفلت کی حالت میں حملہ کردیں (تو یہ مناسب ہوگا) ان لوگوں کی نماز کا وقت ہوگیا ہے جو ان کے نزدیک ان کی اولاد اور ان کی اپنی جانوں سے زیادہ محبوب ہے تو حضرت جبرائیل ظہر اور عصر کے درمیانی وقت میں یہ آیت لے کر حاضر ہوئے۔
” اور جب تم ان کے درمیان موجودہو تو انھیں نماز پڑھاؤ “۔
جب نماز کا وقت ہوا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت لوگوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے ‘ ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں دوصفیں قائم کرلیں۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں گئے تو ہم سب بھی رکوع میں چلے گئے ‘ پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایاتوہم سب نے بھی سراٹھالیے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت وہ صف سجدے میں چلی گئی جو آپ کے قریب موجود تھی ‘ جبکہ دوسری صف کے لوگ کھڑے رہ کر ان کی حفاظت کرتے رہے۔ جب ان پہلی صف والوں نے سجدہ کرلیا اور پھر کھڑے ہوئے تو پیچھے کی صف کے لوگ سجدے میں چلے گئے۔ پھر پیچھے کی صف والے آگے کی صف والوں کی جگہ آگئے اور آگے والے پیچھے والوں کی جگہ چلے گئے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں گئے تو ان کے ساتھ سب لوگوں نے رکوع کیا ‘ پھر آپ نے سر اٹھایا تو سب لوگوں نے سر اٹھایا ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس صف نے سجدہ کیا جو آپ کے قریب موجود تھی۔ دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرتے رہے۔ پھر جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب لوگوں سمیت سلام پھیرا۔
راوی کہتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح دو مرتبہ نماز پڑھائی۔ ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنوسلیم کے علاقے میں۔