1882 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ حَدَّثَنَا الْعَرْزَمِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْجَوْهَرِ وَالدُّرِّ وَالْفُصُوصِ وَالْخَرَزِ وَعَنْ نَبَاتِ الأَرْضِ الْبَقْلِ وَالْقِثَّاءِ وَالْخِيَارِ فَقَالَ لَيْسَ فِى الْحَجَرِ زَكَاةٌ وَلَيْسَ فِى الْبُقُولِ زَكَاةٌ إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ.
1882 عمروبن شعیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو سے جواہر ‘ موتیوں قیمتی پتھروں ‘ چھوٹے موتیوں (یاحبشی موتیوں) کے بارے میں اور زمین میں اگنے والے نباتات جیسے جواہرات موتی ‘ نگینہ ‘ ریشم ‘ زمین میں سے اگنے والی سبزی ‘ ترکاری ککڑی وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کسی بھی پتھر میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی اور سبزیوں میں بھی زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف گندم ‘ جو ‘ کھجور اور انگور میں (عشر کی) ادائیگی فرض کی ہے۔